جدہ میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کی تقریب، بروقت تشخیص، خواتین کے عزم و حوصلے اور معاشرتی تعاون کی اہمیت پر زور

 


رپورٹ: ڈاکٹر سمیرہ عزیز

جدہ: ہائیو ورکس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے تعاون سے 17 اکتوبر 2026 کو جدہ کے ایگلون ریسٹورنٹ میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کی ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ سعودی عرب میں ہسپتال کی برانڈ ایمبیسیڈر نوشین احمد وسیم کی زیرِ نگرانی منعقدہ اس تقریب میں طبی ماہرین، میڈیا سے وابستہ شخصیات اور کمیونٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص، خواتین کی نفسیاتی و جذباتی بہبود اور اس مرض سے متاثرہ خواتین کے لیے ہمدردانہ معاشرتی تعاون کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔

Watch the Short Reel Featuring Highlights from the Seminar

✨ Subscribe • 👍 Like • 💬 Comment • 🔄 Share

📺 YouTube:🔗   📘 Facebook: 🔗 

📸 Instagram: 🔗 👻 Snapchat:🔗 

🧵 Threads: 🔗 💼 LinkedIn:

🔗 🎵 TikTok🔗  𝕏 X: 𝕏 X: 🔗

یہ پروگرام اکتوبر میں دنیا بھر میں منائے جانے والے بریسٹ کینسر آگاہی ماہ کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت نے 2026 کے لیے ’’ہر کہانی منفرد ہے، ہر سفر اہمیت رکھتا ہے‘‘ کو مرکزی پیغام قرار دیا ہے، جس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ کینسر سے متاثرہ ہر خاتون کی زندگی، حالات، علاج تک رسائی اور مشکلات کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے 2024 کے تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 24 لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی، جبکہ تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار خواتین اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔ یہ اعداد و شمار بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور معیاری طبی سہولتوں تک رسائی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں بھی خواتین میں تشخیص ہونے والے سرطان کی اقسام میں بریسٹ کینسر سرفہرست ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کے مطابق 2022 میں مملکت میں خواتین کے بریسٹ کینسر کے 3,777 نئے کیسز سامنے آنے کا تخمینہ لگایا گیا، جو خواتین میں تشخیص ہونے والے سرطان کے مجموعی کیسز کا 28.3 فیصد تھے۔ یہ اعداد و شمار سعودی عرب میں صحت کی سہولتوں اور اسکریننگ کے بڑھتے ہوئے اقدامات کے ساتھ عوامی آگاہی کی مسلسل ضرورت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

سماجی قیادت اور حوصلہ افزا داستانیں

تقریب کی نظامت ونیزہ عادل نے انجام دی، جنہوں نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور مقررین کا تعارف کرایا۔

اپنے خطاب میں نوشین احمد وسیم نے خواتین کے عزم، حوصلے اور وقار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسلامی تاریخ سے مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے ان عظیم خواتین کا ذکر کیا جنہوں نے معاشرتی دباؤ اور زندگی کی سخت آزمائشوں کے باوجود غیرمعمولی ایمان، ثابت قدمی اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی عورت کی قدر و منزلت کا تعین اس کی ازدواجی حیثیت سے نہیں ہونا چاہیے۔ عورت خواہ غیر شادی شدہ ہو، بیوہ ہو یا طلاق یافتہ، اس کا اصل مقام اس کے کردار، وقار اور ہمت سے متعین ہوتا ہے۔

نوشین وسیم نے کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے وابستہ ممتاز ماہرِ امراضِ نسواں، مرحوم پروفیسر عبداللہ حسین باسلامہ کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر باسلامہ نے کم عمری میں اپنی بہن کو زچگی کے دوران وفات پاتے دیکھا تھا۔ اس المناک واقعے نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں طب کا شعبہ اختیار کرنے، بالخصوص خواتین کی صحت کے لیے اپنی پیشہ ورانہ زندگی وقف کرنے کی تحریک دی۔

ان کی انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نوشین وسیم نے کہا کہ زندگی میں ہر بامقصد جدوجہد کے پیچھے کوئی نہ کوئی ذاتی تجربہ یا محرک ہوتا ہے، جو انسان کے فیصلوں اور خدمات کی سمت متعین کرتا ہے۔

انہوں نے اپنے مرحوم بچوں حمزہ اور هناء کی دل کو چھو لینے والی داستان بھی بیان کی، جس کے ذریعے کینسر سے متعلق آزمائشوں کا سامنا کرنے میں امید، ثابت قدمی اور خاندانی یکجہتی کی اہمیت اجاگر ہوئی۔

تشخیص كے بعد: خواتین کی زندگی اور ان کے مسائل

ڈاکٹر سمیرہ عزیز، سعودی میڈیا پرسن اور بزنس وومن، نے ’’بریسٹ کینسر: تشخیص كے بعد — خواتین کی ثابت قدمی اور معاشرتی تعاون‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔

اپنے صحافتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انہوں نے بریسٹ کینسر کے نفسیاتی، جذباتی اور سماجی اثرات پر روشنی ڈالی، بالخصوص ان خواتین کی مشکلات کو اجاگر کیا جو اپنے اہلِ خانہ سے دور بیرونِ وطن زندگی گزار رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تارکِ وطن خواتین کو علاج اور صحت یابی کے دوران لسانی مشکلات، مالی دباؤ، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور قریبی رشتے داروں کی عدم موجودگی کے باعث اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر سمیرہ عزیز نے نفسیاتی مشاورت، اہلِ خانہ کے تعاون اور خواتین کا اعتماد بحال کرنے والے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ جدید کاسمیٹولوجی اور جمالیاتی نگہداشت کے شعبوں میں ہونے والی ترقی، مناسب طبی رہنمائی کے تحت، کینسر کے علاج کے بعد خواتین کو اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں اعتماد اور احساسِ حسن دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے اردگرد بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کی بات ہمدردی سے سنیں، ان کی جذباتی ضروریات کو سمجھیں اور انہیں مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور عملی تعاون فراہم کریں۔

انہوں نے کہا:

’’طبی رپورٹ ہمیں بیماری کے بارے میں بتاتی ہے، لیکن ایک عورت کی کہانی ہمیں اس کی زندگی سے روشناس کراتی ہے۔‘‘

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے کہا:

’’ہر عورت عزت و وقار کی مستحق ہے، ہر جدوجہد ہمدردانہ تفہیم کی متقاضی ہے، اور کسی بھی عورت کو بریسٹ کینسر کا مقابلہ تنہا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

طبی ماہرین کی جانب سے بروقت تشخیص کی اہمیت پر زور

ڈاکٹر اطلال ابو سند، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں پروفیسر اور ماہرِ امراضِ سرطان، نے بریسٹ کینسر کی مختلف اقسام، اس کے مراحل، علاج کے طریقوں اور درست طبی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی اہمیت واضح کی۔

انہوں نے کہا کہ ہر مریضہ کی طبی کیفیت اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں، لہٰذا علاج کے لیے انفرادی جائزہ ضروری ہے۔ انہوں نے علاج کے دوران مستند معلومات، جذباتی حوصلہ افزائی اور مناسب طبی سہولتوں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

بریسٹ کینسر کی سرجری میں مہارت رکھنے والی ڈاکٹر حنا تاشکندی نے شرکا کے سوالات کے جوابات دیے اور چھاتی میں کسی غیرمعمولی تبدیلی کو نظرانداز نہ کرنے اور بروقت طبی معائنہ کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مرحوم پروفیسر عبداللہ حسین باسلامہ کی اہلیہ کوثر قریشی نے بھی خواتین کی صحت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور طب اور طبی تعلیم کے شعبوں میں اپنے مرحوم شوہر کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جذباتی بہبود اور صحت یابی کے سفر میں تعاون

حنا بیگ، ایموشنل انٹیلی جنس کوچ، کنسلٹنٹ اور فیسلیٹیٹر، نے اپنے منصوبے ’’سول شفٹ اسپیس‘‘ کا تعارف کرایا، جس کا بنیادی تصور ’’ہر جذبے کے اظہار کے لیے ایک محفوظ جگہ‘‘ ہے۔

انہوں نے شرکا سے گفتگو کے دوران خوف، بے یقینی، اداسی اور دیگر جذبات کو تسلیم کرنے کی اہمیت بیان کی اور واضح کیا کہ اپنے احساسات کو دبانے کے بجائے انہیں سمجھنا اور بغیر کسی تنقید کے اظہار کا موقع ملنا نفسیاتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

ان کی نشست میں اس پہلو کو اجاگر کیا گیا کہ جذباتی قبولیت اور نفسیاتی معاونت طبی علاج کے ساتھ مل کر مریضات کی ذہنی مضبوطی اور اعتماد میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

تقریب میں سوال و جواب کی ایک خصوصی نشست بھی ہوئی، جس کے دوران شرکا کو طبی ماہرین سے براہِ راست رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔

اس پروگرام کے انعقاد میں ہائیو ورکس فاؤنڈیشن کی ٹیم، بشمول سمیر الحامید اور وفا الحامید، نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ فوزیہ انصاری، حنا شعیب، بنت الحسن، مریم شاہد اور ونیزہ عادل نے بھی انتظامی امور میں تعاون کیا۔

تقریب کے دوران گلابی ربن اور تحائف تقسیم کیے گئے، جبکہ عشائیے نے شرکا کو باہمی تعارف، تبادلۂ خیال اور کمیونٹی روابط مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا۔

آگاہی سے عملی اقدامات تک

یہ تقریب عالمی ادارۂ صحت کے عالمی بریسٹ کینسر اقدام کے وسیع تر مقاصد سے ہم آہنگ تھی، جن میں بیماری کی جلد تشخیص، طبی معائنے میں تاخیر کی روک تھام اور جامع علاج کی فراہمی شامل ہیں۔

طبی ماہرین کی رہنمائی، ذاتی تجربات اور کمیونٹی کی شمولیت نے واضح کیا کہ بریسٹ کینسر سے آگاہی محض علامتی مہمات تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے بروقت طبی فیصلوں، مؤثر رہنمائی اور عملی معاونت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

تقریب کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ بروقت تشخیص زندگیاں بچا سکتی ہے، ہمدردانہ نگہداشت خواتین کا اعتماد بحال کر سکتی ہے اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ کوئی خاتون بریسٹ کینسر کا مقابلہ تنہا نہ کرے۔


ادارتی نوٹ: ڈاکٹر سمیرہ عزیز نے اس پروگرام میں بطور مہمان مقرر شرکت کی اور اپنے آزاد ڈیجیٹل صحافتی پلیٹ فارمز، سمیرہ عزیز آفیشل اور سمیرہ پین بلاگ کے لیے تقریب کی رپورٹنگ بھی کی۔

تعارفِ مصنفہ: ڈاکٹر سمیرہ عزیز جدہ میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ، تجزیہ نگار اور مقرر ہیں۔ ابلاغِ عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والی ڈاکٹر سمیرہ عزیز کا شمار سعودی عرب کی ابتدائی صفِ اول کی خواتین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی کے شعبوں میں تفریحی صنعت، کاروبار، میڈیا، ادب اور ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔

قارئین اپنی آرا اور تاثرات کمنٹس میں پیش کر سکتے ہیں یا درج ذیل ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں:

consultant.sameera.aziz@gmail.com































 

Comments

Popular posts from this blog

WPCA Honours Champions and Outstanding Performers from 250 Matches in Jeddah

Pak Diplomats Join Community Leaders for a Festive Independence Day Celebration in Jeddah

Cameroon Celebrates 54th National Day in Jeddah, Showcasing Stronger Saudi-Cameroon Friendship and Investment Potential