سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو ۲۰۲۶ میں بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت کی بھرپور نمائندگی، تجارتی روابط بڑھانے پر توجہ

 

بنگلہ دیش کی ۱۱ کمپنیوں نے جدہ میں ملبوسات کی تیاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدی امکانات کو متعارف کرایا، سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے درمیان نئے تجارتی تعاون کے مواقع اجاگر

رپورٹ: ڈاکٹر سمیرہ عزیز

جدہ — چوتھی سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو ۲۰۲۶ میں بنگلہ دیش کی بھرپور شرکت نے عالمی فیشن اور ٹیکسٹائل تجارت میں اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے اس ملک کے بڑھتے ہوئے عزائم کو نمایاں کیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیش کو ملبوسات کی تیاری میں اپنی مہارت اور صنعتی صلاحیتیں سعودی خریداروں، علاقائی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی تجارتی نمائندوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا۔

۲۴ سے ۲۷ ستمبر تک جدہ کے بین الاقوامی نمائش و کنونشن مرکز میں منعقد ہونے والی اس نمائش نے دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں، فیشن برانڈز اور ملبوسات کے برآمد کنندگان کو سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی منڈی میں کاروباری امکانات تلاش کرنے کا اہم موقع فراہم کیا۔

Watch the Short Reel Highlighting Bangladesh’s Vibrant Participation 

✨ Subscribe • 👍 Like • 💬 Comment • 🔄 Share

📺 YouTube:🔗   📘 Facebook: 🔗 

📸 Instagram: 🔗 👻 Snapchat:🔗 

🧵 Threads: 🔗 💼 LinkedIn:

🔗 🎵 TikTok🔗  𝕏 X: 𝕏 X: 🔗

بین الاقوامی شرکا میں بنگلہ دیشی پویلین اقتصادی سفارت کاری کی ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے واضح کیا کہ سرکاری سطح پر برآمدات کے فروغ، سفارتی تعاون اور نجی کاروباری اداروں کی مشترکہ کوششوں سے کسی ملک کی صنعتی صلاحیتوں کو نئی منڈیوں میں مؤثر انداز سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کے تجارتی اداروں کی سرپرستی میں بھرپور شرکت

بنگلہ دیشی پویلین کا قیام ایکسپورٹ پروموشن بیورو، یعنی برآمدات کے فروغ کے سرکاری ادارے کی مالی معاونت اور بنگلہ دیش کی وزارتِ تجارت اور جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصلیٹ جنرل کے تعاون سے عمل میں آیا۔

پویلین کا مشترکہ افتتاح جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصل جنرل محمد شاکھوات حسین اور سعودی فیڈریشن آف چیمبرز کے رکن اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے سعودی علاقائی بزنس کونسل کی ایگزیکٹو بورڈ کے رکن اسامہ کوکانادی نے کیا۔

افتتاحی تقریب میں بنگلہ دیشی قونصلیٹ کی وزیر برائے تجارتی امور سیدہ ناہیدہ حبیبہ، قونصل خانے کے دیگر حکام، سعودی کاروباری شخصیات، درآمد کنندگان، بیرونِ ملک مقیم کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔

مجموعی نمائش کا افتتاح جدہ چیمبر آف کامرس کے نائب چیئرمین عماد محمد العبود نے کیا۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفارتی نمائندے، فیشن کی صنعت سے وابستہ ماہرین اور کاروباری رہنما بھی موجود تھے۔

بنگلہ دیشی قونصلیٹ اور ایکسپورٹ پروموشن بیورو کی شمولیت خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ تجارتی نمائشیں اب محض مصنوعات کی نمائش تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایسے مواقع فراہم کر رہی ہیں جہاں سفارتی تعلقات کو عملی تجارتی تعاون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کی ملبوسات کی صنعت کی نمائندگی کرنے والی ۱۱ کمپنیاں

اس نمائش میں بنگلہ دیش کی مجموعی طور پر ۱۱ کمپنیوں نے شرکت کی، جو ملک کی ملبوسات، فیشن اور ٹیکسٹائل صنعت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

شرکت کرنے والی کمپنیوں میں شامل تھیں:

۱۔ زکریا نٹ ویئر لمیٹڈ
۲۔ عالیہ اپیرلز لمیٹڈ
۳۔ ایم ایس اے ایچ کیو اپیرلز
۴۔ موڈسٹ اٹائر بائی جہاں
۵۔ ایٹن فیشنز لمیٹڈ
۶۔ شواپنیل ہاؤس
۷۔ بونم گارمنٹس لمیٹڈ
۸۔ بیل باٹم لمیٹڈ
۹۔ مارکر اپیرل اینڈ فیشن
۱۰۔ سودہ فیشن
۱۱۔ النور گارمنٹس لمیٹڈ

ان کمپنیوں کی مشترکہ شرکت بنگلہ دیش کی اس خواہش کی عکاس تھی کہ وہ اپنی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی خریداروں کا دائرہ وسیع کرے اور سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کی دیگر منڈیوں میں تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنائے۔

پویلین کے تشہیری مواد میں ہر کمپنی کے اسٹال کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، تاکہ نمائش میں آنے والے خریدار متعلقہ کاروباری اداروں تک آسانی سے پہنچ سکیں اور ممکنہ تجارتی تعاون پر بات چیت کر سکیں۔

کمپنیوں کے اسٹالز کے علاوہ ایکسپورٹ پروموشن بیورو نے ایک علیحدہ معلوماتی اسٹال بھی قائم کیا، جہاں تشہیری مواد اور دستاویزی فلموں کے ذریعے بنگلہ دیش کے ثقافتی ورثے، صنعتی و پیداواری صلاحیتوں اور برآمد کے قابل مصنوعات کو متعارف کرایا گیا۔

اس سرکاری ادارے کی موجودگی سے شریک کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کی مجموعی صنعتی شناخت کو بھی اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

بنگلہ دیش: ملبوسات اور ٹیکسٹائل کی عالمی صنعت میں ایک نمایاں ملک

بنگلہ دیش نے تیار ملبوسات کی صنعت میں بین الاقوامی سطح پر ایک مستحکم مقام حاصل کیا ہے اور اس کا شمار دنیا کے بڑے ملبوسات برآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعتیں بنگلہ دیش کی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ شعبے برآمدی آمدنی میں اضافے، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بنگلہ دیشی پویلین کے تعارفی کتابچے میں ملک کی دیگر معاشی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں ادویہ سازی، چمڑے کی مصنوعات، پٹ سن سے متعلق صنعتیں اور زرعی پیداوار کی پروسیسنگ شامل ہیں۔

خصوصی طور پر تیار ملبوسات کا شعبہ قابلِ ذکر ہے، جہاں بنگلہ دیش نے بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت حاصل کرنے کے ساتھ بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ بھی حاصل کیا ہے۔

ماحولیاتی معیارات کی سند رکھنے والی گارمنٹس فیکٹریوں میں بنگلہ دیش کی سرمایہ کاری بھی اس کی ایک اہم صنعتی خوبی ہے۔ عالمی فیشن کمپنیاں اب پائیدار پیداوار، صنعتی طریقۂ کار اور مصنوعات کی تیاری سے ترسیل تک کے مراحل میں شفافیت کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔

بنگلہ دیش کی تاریخی پٹ سن کی صنعت بھی توجہ کی مستحق ہے۔ پٹ سن کو اکثر ملک کا سنہری ریشہ کہا جاتا ہے۔ قدرتی ریشوں سے تیار مصنوعات اور ماحول دوست مواد کے شعبے میں اس کے استعمال کے امکانات موجود ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب فیشن کی عالمی صنعت روایتی پیداواری خام مال کے متبادل تلاش کر رہی ہے۔

ملبوسات کی تیاری میں پہلے سے موجود مہارت اور مخصوص اقسام کے ٹیکسٹائل میں ترقی کے ممکنہ امکانات، بنگلہ دیش کے لیے برآمدی تعلقات کو متنوع بنانے کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

سعودی عرب: بنگلہ دیشی صنعت کاروں کے لیے ایک اہم منڈی

بنگلہ دیش کے صنعت کاروں کے لیے سعودی عرب کی اہمیت صرف تیار ملبوسات کی برآمد تک محدود نہیں۔

مملکت میں فیشن اور پرچون تجارت کے شعبے سعودی وژن ۲۰۳۰ کے وسیع تر اہداف کے تحت ترقی کر رہے ہیں۔ اس قومی منصوبے میں معیشت کو متنوع بنانے، نجی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے اور تخلیقی و تجارتی صنعتوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

سعودی فیشن کمیشن کی رپورٹ ’’سعودی عرب میں فیشن کی صنعت کی صورتحال ۲۰۲۴‘‘ کے مطابق، وسیع تر فیشن صنعت نے ۲۰۲۳ میں مملکت کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً ۲ اعشاریہ ۵ فیصد حصہ ڈالا، جبکہ اس شعبے سے تقریباً ۳ لاکھ ۲۰ ہزار افراد کو روزگار حاصل تھا۔

یہ اعداد و شمار فیشن کی مجموعی صنعت کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں اور سعودی منڈی میں بین الاقوامی کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پس منظر فراہم کرتے ہیں۔

بنگلہ دیشی برآمد کنندگان کے لیے ممکنہ کاروباری شعبوں میں تیار ملبوسات، نٹ ویئر، باحیا فیشن، ٹیکسٹائل کی خریداری، دوسرے برانڈز کے نام سے مصنوعات کی تیاری اور سعودی ریٹیلرز اور تقسیم کاروں کے ساتھ طویل مدتی رسد کے معاہدے شامل ہو سکتے ہیں۔

ایک بڑی علاقائی تجارتی منڈی کی حیثیت سے سعودی عرب، ان کمپنیوں کے لیے بھی امکانات رکھتا ہے جو خلیجی ممالک میں اپنی مصنوعات کی رسائی بڑھانا چاہتی ہیں۔

تاہم کسی نمائش میں شرکت کو مستقل کاروباری ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے صرف خوبصورت مصنوعات کی نمائش کافی نہیں ہوتی۔ مناسب اور مسابقتی قیمتیں، بروقت اور قابلِ اعتماد ترسیل، یکساں معیار، مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن اور سعودی منڈی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

یہی وہ شعبہ ہے جہاں بنگلہ دیشی صنعت کاروں اور سعودی درآمد کنندگان کے درمیان براہِ راست رابطے خصوصی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو: عالمی صنعت کاروں اور سعودی کاروباری اداروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ

پیرامڈز گروپ کے زیرِ اہتمام منعقدہ چوتھی سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو میں سینکڑوں نمائش کنندگان شریک ہوئے، جن کا تعلق عالمی ٹیکسٹائل صنعت، ملبوسات کی تیاری، فیشن سے متعلق لوازمات، تکنیکی استعمال کے کپڑوں اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تھا۔

منتظمین کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، نمائش میں ۲۲ ممالک سے تقریباً ۵۵۰ نمائش کنندگان نے شرکت کی، جبکہ پیشہ ورانہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے ۱۰ ہزار سے زائد افراد کی آمد متوقع تھی۔

نمائش میں کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں، مصنوعات اور خام مال کی خریداری سے متعلق مذاکرات اور صنعتی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان نشستوں میں مصنوعات کی تیاری، جدت، فیشن ڈیزائن اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داری جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

مقررین اور شرکا میں سفارتی حلقوں کے نمائندے، سعودی تجارتی تنظیموں سے وابستہ شخصیات، فیشن کے کاروباری افراد اور مختلف ممالک کے صنعتی ماہرین شامل تھے۔

دیگر بڑے صنعتی ممالک کے ساتھ بنگلہ دیش کی شرکت سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوئی کہ عالمی پیداواری صلاحیتوں کو سعودی ریٹیلرز، ڈیزائنرز اور تقسیم کاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا کس قدر اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

اگرچہ بڑی بین الاقوامی نمائشیں کاروباری تعارف اور مذاکرات کے مواقع فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کی مستقل تجارتی اہمیت کا انحصار ان روابط اور معاہدوں پر ہوتا ہے جو نمائش کے بعد عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔


نمائش سے آگے اقتصادی سفارت کاری کا کردار

بنگلہ دیش کی شرکت کا ایک نہایت مثبت پہلو اس کے سفارتی مشن، سرکاری تجارتی اداروں اور نجی شعبے کے صنعت کاروں کے درمیان تعاون تھا۔

جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصلیٹ جنرل نے ملکی کمپنیوں کو ایک اہم تجارتی حلقے کے سامنے متعارف کرانے میں معاون کردار ادا کیا۔

اس نوعیت کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ سفارتی مشن کاروباری شخصیات کے درمیان تعارف کرانے، تجارتی روابط بڑھانے اور اپنے ملک کی صنعتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کے ذریعے معاشی تعلقات کے فروغ میں کس طرح حصہ ڈال سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان پہلے ہی دیرینہ روابط موجود ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات افرادی قوت، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے دیگر شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ملبوسات، ٹیکسٹائل اور فیشن کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے سے ان موجودہ تعلقات میں ایک اور تعمیری پہلو شامل ہو سکتا ہے۔

بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی کاروباری افراد کی شرکت بھی قابلِ ذکر ہے۔ تارکینِ وطن کی کاروباری برادری اپنے آبائی ممالک کے صنعت کاروں اور سعودی عرب کے ممکنہ تجارتی شراکت داروں کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

نمائش میں شرکت سے مستقل تجارتی شراکت داری تک

سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو میں بنگلہ دیش کی موجودگی کا حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ اس سے ان صنعت کاروں کے لیے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں جو اپنی روایتی برآمدی منڈیوں سے آگے بڑھ کر پائیدار اور طویل مدتی کاروباری تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

بین الاقوامی نمائشیں کمپنیوں کو نئے مواقع سے متعارف کراتی ہیں، لیکن کسی نئی منڈی میں کامیاب کاروبار قائم کرنے کے لیے مسلسل رابطے، علاقائی صارفین کی پسند اور ضروریات سے واقفیت اور تجارتی مذاکرات کو عملی نتائج تک پہنچانے کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے لیے اگلا اہم مرحلہ سعودی تھوک فروشوں، پرچون فروشوں، مصنوعات کی خریداری کے نمائندوں اور فیشن کے کاروباری اداروں کے ساتھ براہِ راست تعلقات کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ایسی مصنوعات کی نشاندہی بھی اہم ہے جن میں بنگلہ دیشی صنعت کار قیمت، معیار یا پیداواری صلاحیت کے اعتبار سے بہتر مسابقتی امکانات رکھتے ہوں۔

دوسری جانب سعودی منڈی کو بھی مصنوعات کی خریداری کے مزید متبادل اور تجربہ کار بین الاقوامی صنعت کاروں کے ساتھ مفید کاروباری تعلقات سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مقصد صرف آئندہ نمائشوں میں زیادہ شرکت تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسے عملی نتائج حاصل کرنا بھی ضروری ہے جنہیں تجارتی روابط، مصنوعات کی تقسیم کے انتظامات اور دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند کاروبار کی صورت میں جانچا جا سکے۔


سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات کا ایک مثبت باب

ایک سعودی صحافی اور کاروباری خاتون کی حیثیت سے میں ایسے اقدامات کو خصوصی اہمیت دیتی ہوں جو بین الاقوامی سطح پر حقیقی تجارتی تعاون کو فروغ دیں، خصوصاً جب ان کے ذریعے کاروباری شخصیات، صنعت کاروں اور نئے ابھرتے ہوئے برانڈز کے لیے مواقع پیدا ہوں۔

چوتھی سعودی فیشن ٹیکس ایکسپو میں بنگلہ دیش کی شرکت اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ قومی صنعتوں کو ایسے بین الاقوامی مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ اپنی صلاحیتیں ممکنہ تجارتی شراکت داروں کے سامنے براہِ راست پیش کر سکیں۔

یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ سفارتی ادارے محض رسمی نمائندگی تک محدود رہنے کے بجائے عملی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے ایسے مواقع کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی پویلین صرف ملبوسات تیار کرنے والی کمپنیوں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں کاروباری اداروں، برآمدات کے فروغ سے وابستہ سرکاری اداروں اور سفارتی نمائندوں کی مشترکہ کوششیں نظر آئیں، جن کا مقصد تجارتی امکانات کو آگے بڑھانا تھا۔

بنگلہ دیش کے پاس ملبوسات کی تیاری کا تجربہ موجود ہے اور سعودی عرب ایک ترقی کرتی ہوئی تجارتی منڈی فراہم کرتا ہے۔ اب اصل موقع یہ ہے کہ ابتدائی کاروباری روابط کو مستقل اور پائیدار شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف متعلقہ کاروباری اداروں کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی بلکہ سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے معاشی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

مصنفہ کے بارے میں:
ڈاکٹر سمیرہ عزیز جدہ میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ، تجزیہ کار اور اسپیکر ہیں۔ وہ ماس میڈیا میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور سعودی عرب کی اوّلین خواتین صحافیوں میں شامل ہیں۔ سعودی ویژن 2030، انٹرٹینمنٹ، بزنس، میڈیا، ادب اور ثقافتی تبادلوں میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ ان سے   consultant.sameera.aziz@gmail.com  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔




















Comments

Popular posts from this blog

WPCA Honours Champions and Outstanding Performers from 250 Matches in Jeddah

Pak Diplomats Join Community Leaders for a Festive Independence Day Celebration in Jeddah

Cameroon Celebrates 54th National Day in Jeddah, Showcasing Stronger Saudi-Cameroon Friendship and Investment Potential