جدہ میں "گنی" کی آزادی کی 68ویں سالگرہ؛ سعودی عرب کے ساتھ تجارت، سیاحت اور ثقافتی تعاون کے نئے امکانات اجاگر

 جدہ ہلٹن میں منعقدہ سفارتی تقریب میں سعودی عرب اور گنی کے دیرینہ تعلقات، گنی کے ترقیاتی منصوبے ’سیماندو 2040‘ اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کو نمایاں کیا گیا۔

تحریر: ڈاکٹر سمیرہ عزیز 

(سعودی صحافی و بزنس وومن)

جدہ، سعودی عرب: جدہ میں جمہوریہ گنی کے قونصل خانے نے جمعہ، 2 اکتوبر 2026 کی شام جدہ ہلٹن میں ملک کی آزادی کی 68ویں سالگرہ منائی۔ تقریب میں سعودی حکام، سفیروں، قونصل جنرلز، مختلف سفارتی مشنز کے نمائندوں اور مملکت میں مقیم گنی کی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔

گنی نے 2 اکتوبر 1958 کو آزادی حاصل کی تھی۔ اس تاریخی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں گنی کی قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے ساتھ سعودی عرب سے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا۔

تقریب کی ویڈیو جھلکیاں دیکھیے:

🎬 Watch Exclusive Highlights of the Event on Sameera Aziz Official

✨ Subscribe • 👍 Like • 💬 Comment • 🔄 Share

📺 YouTube:🔗   📘 Facebook: 🔗 

📸 Instagram: 🔗 👻 Snapchat:🔗 

🧵 Threads: 🔗 💼 LinkedIn:

🔗 🎵 TikTok🔗  𝕏 X: 𝕏 X: 🔗

اس تقریب میں شرکت نے مجھے ان تعلقات کی اہمیت پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا جو روایتی سفارت کاری کے دائرہ کار سے بالاتر ہیں۔ قومی تقریبات محض تاریخ کی یاد تازہ کرنے اور اپنی ثقافتی شناخت پر فخر کرنے تک محدود نہیں ہوتیں؛ بلکہ یہ تجارت، سیاحت، تعلیم، مذہبی رسومات اورعوام کے باہمی روابط جیسے شعبوں میں اقوام کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کے امکانات تلاش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

قومی شناخت اور ترقیاتی عزائم کا اظہار

تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد سعودی عرب اور گنی کے قومی ترانے بجائے گئے۔

اس موقع پر ایک دستاویزی فلم کے ذریعے گنی کے طویل المدتی قومی ترقیاتی پروگرام ’سیماندو 2040‘ کا تعارف پیش کیا گیا۔ فلم میں ملکی معیشت کو مستحکم بنانے، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور قدرتی وسائل سے مؤثر انداز میں استفادہ کرنے کے لیے گنی کے منصوبوں اور ترجیحات کو نمایاں کیا گیا۔

گنی معدنی وسائل کی دولت کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے، تاہم اس کے ترقیاتی اہداف صرف معدنیات تک محدود نہیں۔ زراعت، صنعت، نقل و حمل، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے بھی اس کی ترقیاتی ترجیحات میں شامل ہیں۔

اس دستاویزی فلم سے شرکا کو گنی کی اقتصادی ترجیحات اور ان ممکنہ مواقع کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا جو ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔

قونصل جنرل کا سعودی عرب سے تعلقات کی اہمیت پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جدہ میں جمہوریہ گنی کے قونصل جنرل عزت مآب ڈاکٹر محمد بنتو کیتا نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور گنی اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ اور سفارتی تعلقات کی گہرائی کو اجاگر کیا۔

انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔

قونصل جنرل نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ضیوف الرحمن، بالخصوص حج و عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کو سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کو سراہا۔

ان کے خطاب کا ایک اہم موضوع گنی کی اقتصادی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے امکانات تھے۔ انہوں نے سعودی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کو گنی میں دستیاب مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت دی، خصوصاً ان شعبوں میں جو ملک کے بڑے ترقیاتی منصوبوں، بشمول سیماندو 2040، سے متعلق ہیں۔

ان کے خیالات سے واضح ہوا کہ گنی سعودی عرب کے ساتھ اپنے موجودہ سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط کو بھی مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

سعودی عرب اور گنی کے تعلقات کی مستحکم بنیاد

سعودی عرب اور گنی کے باہمی تعاون کی تاریخ میں ترقیاتی امداد اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف شعبوں میں روابط اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

سعودی فنڈ برائے ترقی کے مطابق، گنی کے ساتھ اس کا ترقیاتی تعاون 1977 سے جاری ہے۔ اس تعاون کے تحت نقل و حمل، توانائی، تعلیم، صحت اور پانی جیسے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھی دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ نومبر 2025 میں سعودی عرب کی وزارتِ اقتصادیات و منصوبہ بندی نے گنی کی وزارتِ منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت کا اعلان کیا تھا۔

اس کا مقصد ادارہ جاتی تعاون، معلومات کے تبادلے اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا تھا۔

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے تعلقات کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے ایسے مستقل رابطوں کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے جن کے ذریعے وقت کے ساتھ تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

تجارت اور کاروباری تعاون کے امکانات

ایک کاروباری خاتون کی حیثیت سے میری نظر میں گنی کے ترقیاتی اہداف سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک دلچسپ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

یہ امکانات صرف معدنی وسائل تک محدود نہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زراعت، خوراک کی تیاری و پراسیسنگ، سامان کی ترسیل، تعمیرات، ہوٹل و مہمان نوازی اور متعلقہ خدمات جیسے شعبوں میں بھی کاروباری ادارے مارکیٹ کی طلب اور تجارتی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب کو ان میں سے متعدد شعبوں میں تجربہ حاصل ہے، جبکہ گنی اپنی قومی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے شراکت داری اور مہارت کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے۔

تاہم بین الاقوامی کاروباری تعلقات کی کامیابی کے لیے محض سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرنا کافی نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاروں کو قابلِ اعتماد معلومات، مقامی قوانین سے آگاہی، ضروری چھان بین اور معتبر کاروباری شراکت داروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

میرے خیال میں مستقبل میں سعودی اور گنی کی کمپنیوں کے درمیان منظم کاروباری روابط قائم کرنے کے امکانات پر غور کیا جانا چاہیے۔

تجارتی تعارفی نشستیں، متعلقہ ایوان ہائے تجارت کے ذریعے کاروباری شخصیات کا باہمی تعارف اور مختلف شعبوں کے لیے مخصوص کاروباری ملاقاتیں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو قابلِ عمل مواقع کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہیں۔

ایسے روابط چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ یہ ادارے بھی دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اصل مقصد ایسے پائیدار کاروباری روابط کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے جن سے دونوں ممالک کو عملی فائدہ پہنچ سکے۔

سیاحت اور ثقافتی تبادلے سے قربت بڑھانے کے امکانات

سیاحت ایک اور شعبہ ہے جس میں تعاون کے امکانات توجہ کے مستحق ہیں۔

گنی قدرتی مناظر سے مالامال ملک ہے۔ بحرِ اوقیانوس کے ساحل، پہاڑی علاقے، آبشاریں اور ثقافتی مقامات اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ مقامی روایات، موسیقی، کھانے اور تاریخی ورثہ بھی گنی کی منفرد شناخت کا حصہ ہیں۔

سیاحتی مقامات کے تعارفی پروگراموں، سیاحتی صنعت سے وابستہ اداروں کے باہمی روابط اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے گنی کے سیاحتی امکانات کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں کا تجربہ بھی مختلف نوعیت کے تبادلوں میں مفید ہو سکتا ہے۔ ان میں سیاحوں کے لیے خدمات، ہوٹل مینجمنٹ اور سیاحتی مقامات کی تشہیر جیسے شعبے شامل ہیں۔

البتہ بین الاقوامی سیاحت کے فروغ کا انحصار سفر کی سہولتوں، بنیادی ڈھانچے، سفری انتظامات، سیاحوں کے اعتماد اور تجارتی طلب پر ہوتا ہے۔ کسی بھی عملی منصوبے میں ان عوامل کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

میری رائے میں سیاحت اور ثقافتی تعاون ایک دوسرے کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب لوگ کسی ملک کی تہذیب، روایات اور تاریخی ورثے سے واقف ہوتے ہیں تو ان میں اس کے سیاحتی مقامات، مصنوعات اور اقتصادی مواقع کے بارے میں جاننے کی دلچسپی بھی بڑھ سکتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں سیاحتی تعارفی تقریبات یا مشترکہ ثقافتی پروگرام جیسے محدود اقدامات بھی دونوں ممالک کے درمیان مزید روابط قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

عوامی روابط کی اہمیت

بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم پہلو، جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، مختلف ممالک کے عوام کے درمیان براہِ راست رابطہ ہے۔

سعودی عرب اور گنی کے تعلقات میں حج اور عمرہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مملکت آنے والے زائرین کو سعودی معاشرے اور یہاں کی مہمان نوازی سے واقف ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح ایسے تجربات اور تعلقات جنم لیتے ہیں جو رسمی سفارتی روابط سے آگے بڑھتے ہیں۔

تعلیم، ادب، صحافت، کاروبار اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں بھی باہمی روابط بڑھانے کے خاصے امکانات موجود ہیں۔

ایک صحافی اور مصنفہ کی حیثیت سے میں ثقافتی آگاہی کو ممالک کے درمیان مثبت اور تعمیری تعلقات کی اہم بنیاد سمجھتی ہوں۔

صحافتی تبادلے، ادبی سرگرمیاں، پیشہ ورانہ روابط اور نوجوان کاروباری شخصیات کے لیے مواقع دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے زیادہ قریب آنے اور باہمی آگاہی بڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مستقبل کے لیے ایک قابلِ غور تجویز سعودی عرب اور گنی کے مشترکہ ثقافتی و کاروباری اجتماع کا انعقاد بھی ہو سکتی ہے، جس میں کاروباری شخصیات، فنکاروں، سیاحتی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔

یقیناً ایسے کسی اقدام کے لیے متعلقہ اداروں کا تعاون اور مناسب منصوبہ بندی ضروری ہوگی، لیکن یہ تجویز ظاہر کرتی ہے کہ ثقافتی سرگرمیاں اور کاروباری روابط ایک دوسرے کے لیے کس طرح مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

گنی کی ثقافت اور سفارتی دوستی سے سجی شام

یومِ آزادی کی تقریب میں گنی کی روایتی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف ثقافتی مظاہرے پیش کیے گئے۔

شام کے پروگرام میں ملک کی اقتصادی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق معلوماتی پیشکشیں بھی شامل تھیں۔ یوں قومی ثقافت کے جشن کے ساتھ ملکی ترقی کے امکانات کو بھی نمایاں کیا گیا۔

اپنے خطاب میں قونصل جنرل نے سعودی عرب میں مقیم گنی کی کمیونٹی کے افراد کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مملکت کے قوانین و ضوابط کی پابندی جاری رکھنے کی تلقین کی۔

تقریب کے اختتامی مراحل میں قونصل خانے کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، قونصل جنرل نے عزت مآب سفیر فرید بن سعد الشہری، عزت مآب سفیر محمد احمد دیالو اور عزت مآب ڈاکٹر کوتوب مصطفیٰ سانو کو ان کی شرکت اور موجودگی کے اعتراف میں یادگاری تحائف پیش کیے۔

اس کے بعد یومِ آزادی کا روایتی کیک کاٹا گیا اور مہمانوں کی یادگاری اجتماعی تصویر بنائی گئی۔

بعدازاں شرکا نے قونصل خانے کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی۔

میری نظر میں: دیرینہ دوستی کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت

جدہ میں گنی کی یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی تعلقات میں مستقل رابطوں کی اہمیت پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔

افریقی ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات سفارتی، مذہبی، اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے مختلف پہلو رکھتے ہیں۔ گنی کی ترقیاتی ترجیحات بھی مثبت مکالمے اور ممکنہ تعاون کے مزید مواقع فراہم کرتی ہیں۔

میرے خیال میں مستقبل میں سعودی عرب اور گنی کے روابط کو فروغ دینے کے لیے تین شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے: عملی کاروباری روابط، ثقافتی و سیاحتی تبادلے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات۔

یہ تجاویز مستقبل میں غور کرنے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں، انہیں پہلے سے طے شدہ یا منظور شدہ اقدامات نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کی افادیت کا انحصار متعلقہ اداروں، کمیونٹیز اور کاروباری حلقوں کی دلچسپی اور عملی تعاون پر ہوگا۔

سفارتی تقریبات دوستی اور باہمی احترام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی افادیت اس وقت مزید بڑھ سکتی ہے جب یہ تقریبات مستقل مکالمے، تجربات اور معلومات کے تبادلے اور عملی تعاون کی نئی راہوں کو بھی فروغ دیں۔

گنی اپنے سیماندو 2040 کے ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے لیے ان شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے جہاں ان کے مفادات اور تجربات ایک دوسرے کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔

گنی کی آزادی کی 68ویں سالگرہ کی یہ تقریب اس حقیقت کی یاد دہانی بھی تھی کہ ممالک کے درمیان تعلقات صرف رسمی معاہدوں سے قائم نہیں رہتے، بلکہ باہمی سمجھ بوجھ، ایک دوسرے کی ثقافت کے احترام اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے روابط بھی انہیں مضبوط بناتے ہیں۔

مضبوط سفارتی تعلقات تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، لیکن بامعنی اور پائیدار شراکت داری مستقل رابطوں، باہمی اعتماد و آگاہی اور مشترکہ مواقع کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔

----- 

مصنفہ کے بارے میں:
ڈاکٹر سمیرہ عزیز جدہ میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ، تجزیہ کار اور اسپیکر ہیں۔ وہ ماس میڈیا میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور سعودی عرب کی اوّلین خواتین صحافیوں میں شامل ہیں۔ سعودی ویژن 2030، انٹرٹینمنٹ، بزنس، میڈیا، ادب اور ثقافتی تبادلوں میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ ان سے   consultant.sameera.aziz@gmail.com  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

























 

 

Comments

Popular posts from this blog

WPCA Honours Champions and Outstanding Performers from 250 Matches in Jeddah

Pak Diplomats Join Community Leaders for a Festive Independence Day Celebration in Jeddah

Cameroon Celebrates 54th National Day in Jeddah, Showcasing Stronger Saudi-Cameroon Friendship and Investment Potential