اطیافِ حرمین: سوزان اسکندر کی عالمی تصویری نمائش، جس نے اسلام کی روحانی میراث کو جدہ سے دنیا تک پہنچایا


                                                                                                       ازقلم: ڈاکٹر سمیرہ عزیز


جدہ میں معروف سعودی میڈیا پروفیشنل اور فوٹوگرافر سوزان اسکندر کی شہرۂ آفاق فوٹوگرافی نمائش ’’اطیاف الحرمین‘‘ (حرمین شریفین کے رنگ) کی جھلکیاں۔ اس کولاج میں ڈاکٹر سمیرہ عزیز کی نمائش کے دوران ملاقات، حج کی تکمیل کے بعد مطوف کی جانب سے حجاج کرام کو ’’عید مبارک‘‘ کہہ کر رخصت کرنے کا دل گداز منظر، اور سوزان اسکندر کی جانب سے اپنی شہرۂ آفاق فوٹوگرافی کتاب کی پیشکش شامل ہے، جو حرمین شریفین اور سفرِ حج کے روحانی، تاریخی، فنی اور انسانی پہلوؤں کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے۔ (فوٹو کولاج: ڈاکٹر سمیرہ عزیز- تصاویر: مختلف ذرائع، بشمول ڈاکٹر سمیرہ عزیز)

------------------------------

سعودی عربین سوسائٹی فار کلچر اینڈ آرٹس (SASCA) جدہ نے معروف سعودی میڈیا پروفیشنل اور فوٹوگرافر سوزان اسکندر کی تصویری نمائش "اطیاف الحرمین" کی میزبانی کی۔ تصویروں کے ایک مؤثر اور روح پرور مجموعے کے ذریعے یہ نمائش اسلام کے مقدس ترین مقامات کی روحانی عظمت، تاریخی ورثے اور تعمیراتی شان کو اجاگر کرتی ہے، ساتھ ہی دنیا کے سامنے سعودی عرب کے امن، ایمان اور مہمان نوازی کے پائیدار پیغام کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

نمائش کو شہریوں، مقیم غیر ملکیوں، سفارت کاروں، فنکاروں، فوٹوگرافرز، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مختلف بین الاقوامی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ غیر معمولی عوامی دلچسپی کے باعث، جو نمائش 20 جون کو اختتام پذیر ہونا تھی، اسے بڑھا کر 4 جولائی تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ نمائش محض تصویروں کا مجموعہ نہیں بلکہ سوزان اسکندر کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط انتھک محنت کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے 2003 سے حج کی دستاویزی عکاسی کا آغاز کیا، جبکہ 2005 سے سعودی عرب کی ریاستی سلامتی کی صدارت کے ماتحت شعبۂ طیرانِ امن کے تعاون سے حرمین شریفین اور مشاعرِ مقدسہ کی فضائی فوٹوگرافی کر رہی ہیں۔ اپنے پیشہ ورانہ سفر کے دوران انہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی تقریبات کی میڈیا کوریج کی، جن میں مکہ سربراہی کانفرنسیں بھی شامل ہیں، جبکہ عرب دنیا کے نمایاں فوٹوگرافی میلوں اور کانفرنسوں میں سعودی عرب کی نمائندگی بھی کی۔

نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سوزان اسکندر نے بتایا کہ "اطیافِ حرمین" کا تصور 2013 میں اس وقت ذہن میں آیا جب دنیا بھر میں حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی ایک فلم کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا تھا۔ اسی دوران انہیں ہیئت الفجیرہ کی جانب سے، انجینئر محمد الأفخم کے توسط سے، ایک انفرادی نمائش منعقد کرنے کی دعوت ملی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ نمائش صرف تصویروں کی نہیں بلکہ اسلام کے حقیقی، روحانی اور انسان دوست پیغام کی ترجمان ہوگی۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے آل شیبی خاندان کے گھر کا دورہ کیا، جو صدیوں سے مفتاحِ کعبہ کے امین چلے آ رہے ہیں۔ وہاں انہوں نے مفتاحِ کعبہ، غلافِ کعبہ (کسوہ) اور اس کی تیاری، کشیدہ کاری اور سلائی کے مراحل کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ یہی نادر تصاویر بعد ازاں "اطیافِ حرمین" کی بنیاد بنیں۔

نمائش کا آغاز کامیابی کے ساتھ فجیرہ میں ہوا، جس کے بعد اسے دبئی مال منتقل کیا گیا، جہاں بھی اسے غیر معمولی پذیرائی ملی۔ اس کے بعد یہ نمائش دنیا کے مختلف خطوں کا سفر کرتی ہوئی اب تک 57 ممالک پہنچ چکی ہے اور اسلام اور حرمین شریفین کا تعارف کروانے والا ایک مؤثر ثقافتی اور تہذیبی پل بن چکی ہے۔

نمائش کے عالمی سفر کے دوران پیش آنے والے کئی واقعات آج بھی سوزان اسکندر کے لیے ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک غیر مسلم زائر ایک تصویر کے سامنے رُک گیا اور دریافت کیا کہ کیا وہ اس مقدس مقام کی زیارت کر سکتا ہے۔ جب اسے بتایا گیا کہ مکہ مکرمہ میں داخلہ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے تو اس نے فوراً اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی اور نمائش ہال ہی میں کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ اس موقع پر بالائی منزلوں پر موجود متعدد افراد بھی اس کے ساتھ کلمہ دہراتے رہے، جسے سوزان اسکندر اپنی زندگی کے سب سے روح پرور لمحات میں شمار کرتی ہیں۔

اسی برس شکاگو میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک امریکی کانفرنس ڈائریکٹر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کی تصویر سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے وہیں، اسی تصویر کے سامنے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سوزان اسکندر کے مطابق، ان واقعات نے انہیں اس یقین میں مزید مضبوط کیا کہ یہ منصوبہ محض فوٹوگرافی نہیں بلکہ ایک روحانی اور انسانی مشن بن چکا ہے۔

ان کے مطابق اب تک اس نمائش کے ذریعے 46 افراد اسلام قبول کر چکے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ کے ماحول کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش اور اس کے ہمراہ پیش کی جانے والی تصویری کتاب کے دوران بھی امریکی مبلغ سامی کی کاوشوں سے 30 سے زائد افراد اسلام کی آغوش میں آئے، جبکہ حتمی تعداد ابھی مرتب کی جا رہی ہے۔

نمائش کا پورا سفر ایک مربوط بیانیے پر استوار ہے، جو زائرین کو اسلام کے آغاز سے روشناس کراتا ہے۔ یہ سفر جبلِ نور اور غارِ حرا سے شروع ہوتا ہے، جہاں حضرت جبرائیلؑ نے رسول اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل کی، اور پھر مسجد الحرام، خانۂ کعبہ، مدینہ منورہ، مناسکِ حج اور ضیوف الرحمن کی خدمت کے لیے مملکت سعودی عرب کے وسیع ترقیاتی منصوبوں تک پہنچتا ہے۔

نمائش کا ایک نہایت منفرد حصہ وہ تصویری تخلیق ہے، جس میں کرۂ ارض کے تناظر میں خانۂ کعبہ کی مرکزی حیثیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ متعدد زائرین اسے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصویر سمجھتے ہیں، تاہم سوزان اسکندر واضح کرتی ہیں کہ یہ ایک حقیقی فوٹوگرافک کمپوزیشن ہے، جس کا مقصد صرف کعبۃ اللہ کی روحانی مرکزیت کو اجاگر کرنا ہے۔

نمائش کا اختتام حج کے سب سے جذباتی مناظر میں سے ایک پر ہوتا ہے، جہاں ایک مطوف مناسکِ حج مکمل کرنے والے حجاج کا "عید مبارک" کہہ کر استقبال کرتا ہے۔ یہ منظر مطوف اور حاجی کے درمیان قائم ہونے والے اس گہرے روحانی اور انسانی رشتے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے باعث حج کی تکمیل کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونا اکثر دونوں کے لیے انتہائی جذباتی لمحہ بن جاتا ہے۔


سوزان اسکندر کی خدمات صرف فوٹوگرافی تک محدود نہیں۔ وہ فوٹوگرافی کی متعدد تخصصی ورکشاپس منعقد کر چکی ہیں، کئی اہم نمائشوں میں بطور جج خدمات انجام دے چکی ہیں، اور میڈیا پروفیشنلز کلب ، سعودی فوٹوگرافرز ہاؤس سمیت متعدد پیشہ ور میڈیا اداروں کی بانی اراکین میں شامل ہیں۔ وہ عرب یونین آف اسپورٹس فوٹوگرافرز کی بھی رکن ہیں۔ ان کے فن پارے ابوظبی بین الاقوامی کتاب میلے اور کاسابلانکا سمیت متعدد عالمی نمائشوں میں پیش کیے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے نمایاں منصوبے "اطیافِ حرمین" کا عالمی اجرا سعودی یومِ تاسیس کے موقع پر وزارتِ اطلاعات، مکہ مکرمہ ریجن کے ڈائریکٹر جنرل استاد عبدالخالق الزہرانی نے اس شعار کے ساتھ کیا:

"سرزمینِ حرمین سے… دنیا تک"۔

سوزان اسکندر حرمین شریفین پر ایک تصویری کتاب بھی شائع کر چکی ہیں اور40 سے زائد ممالک میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں اور نمائشوں میں شرکت کر کے فوٹوگرافی کو تہذیبوں کے درمیان مکالمے، روحانی آگہی اور سعودی عرب کے اسلامی ورثے کے تعارف کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔

"اطیافِ حرمین" سے رخصت ہونے والا ہر زائر اپنے ساتھ صرف چند یادگار تصاویر نہیں بلکہ اسلام کی روحانی تاریخ، حرمین شریفین کی عظمت اور ضیوفِ رحمن کی خدمت میں مملکت سعودی عرب کے بے مثال کردار کی ایک گہری اور دیرپا یاد بھی لے کر جاتا ہے۔ سوزان اسکندر نے اپنی عدسے کی طاقت سے دستاویزی فوٹوگرافی کو ایک ایسی لازوال بصری داستان میں ڈھال دیا ہے، جو سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں سے بلند ہو کر حرمین شریفین کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا رہی ہے۔

🔗▶️ 🎥 یوٹیوب پر ویڈیو رپورٹ ملاحظہ کریں

جدہ میں معروف سعودی میڈیا پروفیشنل اور فوٹوگرافر سوزان اسکندر کی شہرۂ آفاق فوٹوگرافی نمائش ’’اطیاف الحرمین‘‘ (حرمین شریفین کے رنگ) کی جھلکیاں۔ اس کولاج میں سابق سرکاری مشیر رائد عبدالرحمٰن السلیمان کی جانب سے سوزان اسکندر کو نمائش میں ان کی نمایاں فنی مہارت اور غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں خانۂ کعبہ کی مقدس کسوہ (غلافِ کعبہ) کا ایک متبرک ٹکڑا بطورِ خصوصی اعزاز پیش کیے جانے کا منظر شامل ہے۔ اسی کولاج میں سعودی میڈیا پروفیشنل اور کاروباری شخصیت ڈاکٹر سمیرہ عزیز کی نمائش کے دوران موجودگی بھی دکھائی گئی ہے، جبکہ منتخب تصاویر حرمین شریفین کے روحانی، تاریخی اور فنِ تعمیر کے عظیم ورثے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ( فوٹو کولاج: ڈاکٹر سمیرہ عزیز - تصاویر: مختلف ذرائع، بشمول ڈاکٹر سمیرہ عزیز)


  

Comments

Popular posts from this blog

WPCA Honours Champions and Outstanding Performers from 250 Matches in Jeddah

Pak Diplomats Join Community Leaders for a Festive Independence Day Celebration in Jeddah

Cameroon Celebrates 54th National Day in Jeddah, Showcasing Stronger Saudi-Cameroon Friendship and Investment Potential