سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ 2026 سے کیا حاصل کیا؟
بقلم: ڈاکٹر سمیرہ عزیز
فٹبال میں
فتوحات کا جشن منایا جاتا ہے اور شکستوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، لیکن کسی بھی قوم
کی حقیقی پیش رفت کا اندازہ اکثر اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سفر کے دوران
کیا سیکھتی ہے۔ سعودی عرب کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر اگرچہ گروپ مرحلے پر
اختتام پذیر ہوا، تاہم اگر گرین فالکنز کی کارکردگی کو صرف آخری پوزیشن کی بنیاد
پر پرکھا جائے تو اس سے کہیں بڑی اور اہم حقیقت نظر انداز ہو جائے گی۔ نتائج سے ہٹ
کر دیکھا جائے تو اس عالمی ٹورنامنٹ نے یہ ثابت کیا کہ سعودی فٹبال مملکت کے طویل
المدتی کھیلوں کے وژن اور جاری اسپورٹس ٹرانسفارمیشن کے تحت مسلسل ترقی کی جانب
گامزن ہے۔
بہت سے مبصرین
کے نزدیک راؤنڈ آف 32 تک رسائی سعودی ٹیم کا فوری ہدف تھا۔ اگرچہ یہ مقصد حاصل نہ
ہو سکا، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب نے ایسی قیمتی کامیابیاں ضرور حاصل کیں جن کی
اہمیت کسی بھی اگلے مرحلے میں رسائی سے کم نہیں۔ ان کامیابیوں میں بڑھتا ہوا
اعتماد، عالمی سطح کا تجربہ، نئی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کا سامنے آنا اور مستقبل کے
لیے ایک مضبوط بنیاد کا استحکام شامل ہے۔
شاید اس ورلڈ
کپ کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ سعودی عرب نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی فٹبال
کی مضبوط اور روایتی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گرین فالکنز نے
عالمی فٹبال کے قدیم اور باوقار ترین ممالک میں شمار ہونے والے یوروگوائے کے خلاف
بھرپور جدوجہد کے بعد قیمتی ڈرا حاصل کیا۔ اس کارکردگی میں نظم و ضبط، بہترین
حکمتِ عملی، منظم کھیل اور اپنے اوپر بھرپور اعتماد نمایاں نظر آیا۔ آج سعودی عرب
عالمی ٹیموں کے سامنے صرف مقابلہ کرنے کی نیت سے میدان میں نہیں اترتا بلکہ ان کے
خلاف کامیابی حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ کھیلتا ہے۔
اس عالمی مہم
کا ایک اور روشن پہلو گول کیپر محمد العویس کی شاندار کارکردگی رہی، جنہوں
نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ وہ ایشیا کے بہترین گول کیپرز میں اپنی منفرد حیثیت
برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یوروگوائے کے خلاف ان کی غیرمعمولی کارکردگی کے بعد کیپ ورد
کے خلاف آخری لمحات میں ایک یقینی گول کو روک کر انہوں نے نہ صرف اپنی ٹیم کو کلین
شیٹ دلائی بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور تحسین بھی حاصل کی۔ ایک اعلیٰ
معیار کا گول کیپر پوری ٹیم میں اعتماد پیدا کرتا ہے، اور محمد العویس نے ایک
مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر سعودی قومی ٹیم کے سب سے قیمتی اثاثوں
میں سے ایک ہیں۔
اس ورلڈ کپ نے
گرین فالکنز کی نئی نسل کے لیے بھی انمول تجربات فراہم کیے۔ سلطان مندش اور
نواف بوشل کی پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں شرکت محض ذاتی اعزاز نہیں تھی بلکہ
سعودی فٹبال کے مستقبل کے لیے ایک اہم سرمایہ بھی ثابت ہوئی۔ دنیا کے سب سے بڑے
فٹبال پلیٹ فارم پر کھیلنے کا تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کو کھیل کی رفتار، شدید دباؤ
اور بین الاقوامی سطح کی حکمتِ عملی سے روشناس کراتا ہے۔ ایسی عملی تربیت کسی بھی
مقامی لیگ یا گھریلو مقابلے سے حاصل نہیں کی جا سکتی، اور یہی تجربات آنے والے
برسوں میں سعودی فٹبال کی مزید ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دفاعی اعتبار
سے بھی سعودی عرب نے اس ورلڈ کپ میں حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یوروگوائے
اور کیپ ورد، دونوں مضبوط حریفوں کے خلاف گرین فالکنز نے دباؤ کے باوجود غیر
معمولی استقامت، منظم دفاع اور ذہنی پختگی کا ثبوت دیا۔ اگرچہ ٹیم مطلوبہ مرحلے تک
رسائی حاصل نہ کر سکی، تاہم اس کے دفاعی نظام میں نمایاں بہتری اور فنی بلوغت واضح
طور پر نظر آئی، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی قومی ٹیم اب اعلیٰ معیار کے
حریفوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مشکل حریف بنتی جا رہی ہے۔
اسی طرح قومی
ٹیم کے ہیڈ کوچ جورجیوس ڈونِس اور ان کے تکنیکی عملے کو بھی حقیقی ورلڈ کپ
ماحول میں تجربہ کار اور ابھرتے ہوئے دونوں طرح کے کھلاڑیوں کا باریک بینی سے
جائزہ لینے کا قیمتی موقع ملا۔ ہر بڑا عالمی ٹورنامنٹ نہ صرف ٹیم کی متبادل قوت کو
مضبوط بناتا ہے بلکہ حکمتِ عملی میں مزید لچک پیدا کرتا ہے اور مستقبل کی منصوبہ
بندی کے لیے قیمتی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔ کامیاب قومی ٹیمیں صرف گیارہ
کھلاڑیوں پر نہیں بنتیں بلکہ ایسے مضبوط اور متوازن اسکواڈ پر قائم ہوتی ہیں جو
مختلف حالات اور چیلنجز کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس عالمی مہم کا ایک اور روشن پہلو سعودی شائقینِ فٹبال کی غیر متزلزل حمایت تھی۔ ہزاروں سعودی مداح امریکہ پہنچے اور سبز پرچموں سے سجے اسٹیڈیمز میں اپنی قومی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ان کی موجودگی نے نہ صرف مملکت میں فروغ پاتی فٹبال ثقافت کی عکاسی کی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ گرین فالکنز جہاں بھی میدان میں اترتے ہیں، وہ سعودی عوام کو ایک مضبوط قومی جذبے کے تحت متحد کر دیتے ہیں۔ امریکہ میں سعودی شائقین کی نمایاں موجودگی نے مملکت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ اور معاشی اعتماد کی بھی عکاسی کی، جس سے سعودی معاشرے کی مضبوط قوتِ خرید اور بین الاقوامی نقل و حرکت نمایاں ہوئی—یہ وہ عوامل ہیں جو سعودی عرب میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مثبت طور پر تقویت دیتے ہیں۔
شاید اس ورلڈ
کپ کی سب سے بڑی کامیابی وہ ہے جسے محض پوائنٹس یا نتائج کی بنیاد پر نہیں ناپا جا
سکتا۔ عالمی معیار کی ٹیموں کے خلاف کھیلا گیا ہر منٹ درحقیقت سعودی فٹبال کے
مستقبل میں ایک سرمایہ کاری ہے۔ یہی تجربات مستقبل میں اے ایف سی ایشین کپ سعودی
عرب 2027، آئندہ فیفا ورلڈ کپ کوالیفائرز اور ویژن 2030 کے تحت قومی ٹیم کی مسلسل
ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس ورلڈ کپ کو
ایک وسیع تر تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اب صرف عالمی فٹبال میں
اپنی موجودگی درج نہیں کرا رہا بلکہ اس کے مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا
کر رہا ہے۔ مملکت نوجوان ٹیلنٹ کی تربیت، کوچنگ، فٹبال اکیڈمیز، اسپورٹس سائنس،
جدید انفراسٹرکچر اور پیشہ ورانہ فٹبال لیگ میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ یہی
اقدامات فٹبال کو ایک ایسی جامع کھیلوں کی منظومہ میں تبدیل کر رہے ہیں جس کا مقصد
وقتی کامیابیاں نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور دیرپا کامیابیوں کا حصول ہے۔
یہ سفر اب ایک
اور تاریخی سنگِ میل کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب 7 جنوری سے 5 فروری 2027 تک اے ایف سی ایشین کپ کی
میزبانی کی تیاریوں میں مصروف ہے، جہاں ایشیا کی بہترین قومی ٹیمیں مملکت میں یکجا
ہوں گی۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف سعودی عرب کو اپنی جدید کھیلوں کی سہولتوں، مہمان
نوازی اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا
بلکہ فیفا ورلڈ کپ 2026 سے حاصل ہونے والے تجربات بھی قومی ٹیم کے لیے اپنی
سرزمین پر مزید کامیاب مستقبل کی بنیاد ثابت ہوں گے۔
قومی ٹیم سے
آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو آج سعودی برانڈز بھی مملکت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و
رسوخ کے سفیر بنتے جا رہے ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں نام البيك (ALBAIK) کا ہے، جو سعودی عرب کی کامیاب ترین مقامی برانڈز
میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں البيك فوڈ سسٹمز کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو
آفیسر رامی ابو غزالہ نے اعلان کیا کہ البيك کو اے ایف سی ایشین
کپ سعودی عرب 2027 کا آفیشل گلوبل سپورٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
یہ اعلان محض ایک تجارتی شراکت داری نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی
کمپنیاں اب عالمی کھیلوں کے بڑے پلیٹ فارمز پر اعتماد کے ساتھ اپنی موجودگی درج
کرا رہی ہیں۔
البيك نے اعلیٰ معیار، مستقل مزاجی اور مناسب نرخوں کی بدولت عوام کا غیرمعمولی اعتماد حاصل کیا ہے۔ دنیا کی بڑی بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز کے ساتھ مسابقت کے باوجود، اس نے اپنی منفرد سعودی شناخت برقرار رکھتے ہوئے معیاری خوراک کو مناسب نرخوں پر عوام تک پہنچایا ہے۔ اب جبکہ البيك، اے ایف سی ایشین کپ سعودی عرب 2027 کے آفیشل گلوبل سپورٹر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی تیاری کر رہا ہے، وہ ایشیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے پلیٹ فارمز میں سے ایک پر سعودی کاروباری کامیابی اور قومی تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔ جس طرح گرین فالکنز عالمی فٹبال میں سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہیں، اسی طرح البيك بھی عالمی کھیلوں کے اس اہم موقع پر سعودی برانڈز کی کامیابی کی ایک روشن مثال بن کر ابھرے گا۔ البيك اور گرین فالکنز دونوں مل کر ایسے سعودی عرب کی تصویر پیش کرتے ہیں جو کھیلوں میں بلند عزائم کے ساتھ ساتھ کاروباری میدان میں بھی عالمی سطح پر اپنی ممتاز شناخت مستحکم کر رہا ہے۔
اگر مستقبل پر نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا فٹبال وژن صرف اگلے ٹورنامنٹ تک محدود نہیں بلکہ بہت آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آج حاصل ہونے والا ہر تجربہ آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مرحلوں کی تیاری کا حصہ ہے اور بالآخر اس تاریخی ذمہ داری کی بنیاد بھی، جب سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی کرے گا۔ ہر بین الاقوامی مقابلہ، ہر ابھرتا ہوا کھلاڑی اور ہر فنی تجربہ درحقیقت اس طویل المدتی قومی منصوبے کی ایک نئی اینٹ ثابت ہو رہا ہے۔
تاریخ عموماً
اُن ٹیموں کو یاد رکھتی ہے جو ٹرافیاں اٹھاتی ہیں، لیکن وہ ان ٹورنامنٹس کو بھی
فراموش نہیں کرتی جو کسی قوم کے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ممکن ہے فیفا
ورلڈ کپ 2026 سعودی عرب کو اگلے مرحلے تک نہ لے جا سکا ہو، لیکن اس نے مملکت
کو اس سے کہیں زیادہ قیمتی سرمایہ ضرور عطا کیا ہے؛ بڑھتا ہوا اعتماد، مضبوط
اعصاب، عالمی سطح کا تجربہ اور مستقبل کے لیے ایک زیادہ واضح وژن۔
گرین فالکنز اس
ورلڈ کپ سے اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر واپس لوٹے ہیں جتنا وہ اس میں داخل ہوئے
تھے۔ ان کا سفر ایک ٹورنامنٹ کے نتیجے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسے وطن کے خواب
سے جڑا ہے جو مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے فٹبال کے مستقبل کو تعمیر کر رہا ہے اور
عالمی کھیلوں کی دنیا میں اپنی بڑھتی ہوئی حیثیت کو مزید مستحکم بنا رہا ہے۔
مصنفہ کے بارے
میں:
ڈاکٹر سمیرہ
عزیز جدہ
میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ، تجزیہ کار اور اسپیکر
ہیں۔ وہ ماس میڈیا میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور سعودی عرب کی اوّلین خواتین
صحافیوں میں شامل ہیں۔ سعودی ویژن 2030، انٹرٹینمنٹ، بزنس، میڈیا، ادب اور ثقافتی
تبادلوں میں ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ ان سے consultant.sameera.aziz@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment