سعودی عرب کی حج 2026 کی تیاریاں ویژن 2030 اور حجاج کی خدمت کے عالمی معیار کی عکاس
تحریر: ڈاکٹر سمیرہ عزیز
سعودی
عرب نے ایک بار پھر حج 1447 ہجری / 2026 کے لیے جامع اور منظم تیاریوں کے ذریعے
دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سے ایک کے انتظام اور میزبانی کی
اپنی غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مملکت کے ویژن 2030 کی رہنمائی میں اور
خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیرِ اعظم
شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں، سعودی عرب کے مختلف حکومتی اداروں نے لاکھوں
عازمینِ حج کو محفوظ، پُرسکون، منظم اور روحانی طور پر بامقصد حج تجربہ فراہم کرنے
کے لیے وسیع تکنیکی، طبی، انتظامی، لاجسٹک اور سکیورٹی وسائل بروئے کار لائے ہیں۔
رواں
برس حج کی تیاریاں سعودی عرب کی ڈیجیٹل تبدیلی، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ہجوم کے مؤثر
انتظام، صحت کی سہولیات میں توسیع اور مربوط خدمات پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتی
ہیں۔ سعودی حکومت کے سرکاری اعلانات اور سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق،
مشاعرِ مقدسہ میں حجاجِ کرام کی خدمت سے وابستہ تمام شعبوں میں تیاریوں نے اعلیٰ
ترین عملی سطح حاصل کر لی ہے۔
مملکت
کے اہم منصوبوں میں سے ایک ’’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘‘ بھی ہے، جس کے تحت اس سال
پاکستان، بنگلہ دیش، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، مراکش، آئیوری کوسٹ، سینیگال،
مالدیپ اور برونائی دارالسلام سمیت 10 ممالک کے حجاج کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے عازمینِ حج اپنے اپنے ممالک میں ہی امیگریشن، کسٹمز اور صحت سے
متعلق مراحل مکمل کر لیتے ہیں، جس سے سعودی عرب پہنچنے پر انتظار کے دورانیے میں
نمایاں کمی اور داخلی مقامات پر ہجوم کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ
اقدام 17 بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے ذریعے فعال ہے۔
حج
2026 کے دوران سعودی عرب نے جدید اسمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی مزید وسعت دی
ہے۔ سعودی حکام نے عازمینِ حج کے لیے اسمارٹ کڑے متعارف کروائے ہیں جن میں موجود
کیو آر کوڈز کے ذریعے عازمین کی ذاتی اور رہائشی معلومات، پاسپورٹ تفصیلات، قومیت
اور منیٰ سمیت مشاعرِ مقدسہ میں قیام کے مقامات کی معلومات محفوظ کی گئی ہیں۔ یہ
جدید نظام حجاج کے اپنے گروپ سے بچھڑ جانے یا رہائش گاہ کا راستہ بھول جانے کی
صورت میں فوری رہنمائی اور معاونت فراہم کرتا ہے۔
مملکت
کے مواصلاتی نظام میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق مشاعرِ
مقدسہ میں 5 جی نیٹ ورک کی کوریج 100 فیصد تک پہنچا دی گئی ہے جبکہ بلا تعطل
ڈیجیٹل رابطہ یقینی بنانے کے لیے 4200 سے زائد تکنیکی ماہرین خدمات انجام دے رہے
ہیں۔
رواں
برس طبی سہولیات کو بھی غیرمعمولی طور پر وسعت دی گئی ہے۔ 52 ہزار سے زائد طبی
ماہرین، ڈاکٹرز، نرسز اور معاون عملہ حجاجِ کرام کی خدمت پر مامور ہے جبکہ فوری
طبی امداد کے مراکز کی گنجائش میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مکہ
مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں سینکڑوں موبائل کلینکس،
ایمبولینسز، لیبارٹریز اور ایمرجنسی یونٹس تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر
فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
نقل و
حمل اور انفراسٹرکچر کے شعبے بھی سعودی عرب کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں۔
حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے 5300 سے زائد ٹرپس اور 22 لاکھ 10 ہزار سے زائد نشستوں کے
ذریعے حجاج کی آمد و رفت کو سہل بنا رہی ہے۔ دوسری جانب سعودی روڈز جنرل اتھارٹی
نے 3500 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی بحالی، 2 لاکھ 15 ہزار کلومیٹر شاہراہوں کا
مصنوعی ذہانت کے ذریعے معائنہ، اور حج روٹس پر جدید حفاظتی نظاموں کی تنصیب جیسے
وسیع منصوبے شروع کیے ہیں۔
منیٰ
میں قائم جمرات کمپلیکس دنیا کے جدید ترین ہجوم کنٹرول انجینیئرنگ منصوبوں میں
شمار ہوتا ہے۔ اس مقام پر 340 برقی زینے، 682 نگرانی کیمرے، 228 گالف کارٹس اور
جدید فائر پروٹیکشن سسٹمز نصب کیے گئے ہیں تاکہ رمیِ جمرات کے دوران لاکھوں حجاج
کی نقل و حرکت کو محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔
سعودی
عرب نے خوراک کے معیار، بلدیاتی خدمات اور تجارتی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر
بنایا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہزاروں فیلڈ انسپکشن دورے کیے جا رہے ہیں
تاکہ خوراک کے معیار، صفائی، رہائشی سہولیات اور تجارتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی
یقینی بنائی جا سکے۔ اسی طرح آگاہی مہمات کے تحت 27 زبانوں میں 14 لاکھ سے زائد
معلوماتی مواد تیار کیا گیا ہے تاکہ حجاج کو صحت، حفاظت اور مناسکِ حج سے متعلق
رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
عملی
تیاریوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب حج کے روحانی اور انسانی پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ
دے رہا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق خادمِ حرمین شریفین کی جانب سے حجاجِ کرام میں
تقریباً 20 لاکھ نسخے قرآنِ مجید بطور تحفہ تقسیم کیے جائیں گے۔ اسی طرح دنیا بھر
سے آنے والے علما، اسلامی شخصیات اور شہدا کے اہلِ خانہ کے لیے خصوصی مہمان نوازی
پروگرام بھی جاری ہیں۔
اگرچہ
قومی مرکز برائے موسمیات نے حج سیزن کے دوران شدید گرمی اور گرد آلود ہواؤں کی
پیشگوئی کی ہے، تاہم سعودی حکام نے مشاعرِ مقدسہ میں کولنگ سسٹمز، واٹر مسٹنگ،
اضافی پانی کی فراہمی اور ہنگامی امدادی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا ہے تاکہ حجاج
کو گرمی سے متعلق خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حج
2026 کے لیے سعودی عرب کی تیاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مملکت جدید منصوبہ
بندی، مربوط ادارہ جاتی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور حجاجِ کرام کی خدمت کے عزم کے
ذریعے دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کے انتظام میں عالمی قیادت کا کردار ادا کر
رہی ہے۔
مصنفہ کے بارے میں:
ڈاکٹر
سمیرہ عزیز جدہ میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین
الثقافتی اُمور پر تبصرہ نگار ہیں۔ وہ ماس میڈیا میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور
سعودی عرب کی اوّلین خواتین صحافیوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ ویژن 2030 اور بین
الثقافتی روابط و تبادلوں پر ان کی خصوصی دلچسپی ہے۔ ان سے consultant.sameera.aziz@gmail.com پررابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment